Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

شیخ علی بخش بیمار

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے

باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور

سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے

امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب

ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے

یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں

لیکن گزر اس گھر میں دوبارا نہ کریں گے

کیا خوب کہا تو نے جو کھولوں ابھی آغوش

ملنے سے مرے آپ کنارا نہ کریں گے

گو خاک میں مل جائیں ہم اور وضع بدل جائیں

پر تجھ سے ملاقات خود آرا نہ کریں گے

اس نرگس بیمارؔ سے رکھتے ہیں شباہت

ہرگز سوئے عبہر بھی اشارا نہ کریں گے