Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھے

شاہ اکبر داناپوری

رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھے

کدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھے

خیال اسی پہ رہے دیکھ بھال کر بیٹھے

تمہاری بزم میں دل کو سنبھال کر بیٹھے

مرے گناہ پر ان زاہدوں کو حیرت ہے

یہ آدمی کو فرشتہ خیال کر بیٹھے

بچاؤں کیونکر اسے کس طرح انہیں ٹالوں

غضب ہوا کہ وہ دل کا سوال کر بیٹھے

رقیب خوش ہوئے اب تو تمہیں قرار آیا

کہ مثل رنگ مرا خون اچھال کر بیٹھے

فلک کی چال ہے یہ آدمی کی چال نہیں

چلے تو لاکھوں ہی کو پائمال کر بیٹھے

خموش کیوں ہو یہ نطق آدمی کا زیور ہے

جو کوئی بیٹھے کہیں بول چال کر بیٹھے

خبر نہیں کہ ہے کاجل کی کوٹھری دنیا

یہاں جو بیٹھے وہ دامن سنبھال کر بیٹھے

جہاں ہے نقش بر آب اس میں دم کے دم ہے قیام

کوئی کسی سے یہاں کیا ملال کر بیٹھے

تڑپ رہا تھا زمیں پر تڑپنے دیتے تم

کسی کا دل ہو کوئی پائمال کر بیٹھے

ٹٹولتے ہیں جگر کو کہ دل کو ڈھونڈتے ہیں

وہ میرے سینے میں کیوں ہاتھ ڈال کر بیٹھے

وہ میرا دل نہیں اے جاں رقیب کا دل ہے

تمہارا تیر جگہ دیکھ بھال کر بیٹھے

کیا خیال ذرا بھی نہ خون عاشق کا

حنا سے تم کف گل رنگ لال کر بیٹھے

ہجوم چاک گریبانوں کا ہے کوچے میں

حضور پردے سے کیوں سر نکال کر بیٹھے

یہ کیا کیا کہ انہیں دے دیا دل اے اکبرؔ

تمہیں خبر نہیں وہ تم سے چال کر بیٹھے