Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سب شکایت ہے زندگانی کی

میر مظفر حسین ضمیر

سب شکایت ہے زندگانی کی

جان نے دشمنیٔ جانی کی

ہم سبک دوش ہی جہاں سے گئے

نہ کسی طبع نے گرانی کی

ہاں سبک سار کر دے اے قاتل

جسم پر سر نے سرگرانی کی

روح تن پر وبال دوش ہوئی

ہے یہ افراط ناتوانی کی

عشق برباد کر گیا آخر

تھی خبر کس کو ناگہانی کی

ایسی اک تیغ آب دار لگا

پھر نہ مانگوں جو بوند پانی کی

دل ہوا فرط داغ سے اک باغ

عشق نے خوب باغبانی کی

اک ذرا کھول چشم عبرت میں

سیر کر اس جہان فانی کی

سینہ پر داغ حسرت و حرماں

اک نشانی ہے یہ جوانی کی

جو ہیں آسودگان عیش انہیں

کیا خبر اس غم نہانی کی

کیوں نہ ہو اشتیاق نظم ضمیرؔ

دھوم ہے اس کی خوش بیانی کی