Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب

پھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جب

ساغر کے لب سے پوچھیے اس لب کی لذتیں

کس واسطے کہ خوب سمجھتا ہے لب کی لب

کم فرصتی سے عمر کی اپنی ہزار حیف

جتنی تھیں خواہشیں وہ رہیں دل میں سب کی سب

سن کر وہ کل کی آج نہ ہو کس طرح خفا

اے نا شناس طبع کہی تو نے کب کی کب

پھولا ہوا بدن میں سماتا نہیں نظیرؔ

وہ گل بدن جو پاس رہا اس کے شب کی شب