Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا

دل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدا

گرچہ وحشت کا نہیں ہے کوئی افسانہ جدا

پر نظر آتا ہے سب سے ترا دیوانہ جدا

قربت حسن غضب ہے کہ سر محفل ناز

اس کے لب سے نہیں ہوتا لب پیمانہ جدا

اے خدا کشمکش یاس و تمنا کب تلک

ان کے رہنے کے لئے دل میں ہو ہر خانہ جدا

آج تنگ آ کے یہ ناصح کو دیا میں نے جواب

مذہب شیخ جدا مشرب رندانہ جدا

خشک ہو جائے جو باقی ہے رگ جاں میں لہو

دل سے ہونا نہ ابھی اے غم جانانہ نہ جدا

بے خودی میں بھی رقابت کا مگر ہے احساس

ایک صحرا میں ہے دیوانے سے دیوانہ جدا

صبر کی مجھ کو جدائی میں ہے تلقین فضول

یہ تو جب ہو کہ رہے شمع سے پروانہ جدا

دشت جاگیر ہے مجنوں کی تو کیا فکر نظرؔ

کھود کر گھر کو بنا لیجئے ویرانہ جدا