Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ستی

سرور جہاں آبادی

اے ستی اے جلوہ گاہ شعلۂ تنویر حسن

پاک دامانی کا نقشہ ہے تری تصویر حسن

یہ تن نازک ترا یہ شعلہ ہائے آتشیں

یہ چتا کی آتش سوزاں یہ جسم نازنیں

صاعقہ ہے برق کا تیرے دل مضطر کی آگ

پھونک دیتی ہے تجھے سوز غم شوہر کی آگ

خاک ہو کر بھی ترے داغ جگر بجھتے نہیں

آہ تیری راکھ کے برسوں شرر بجھتے نہیں

ہند کو ہے ناز تیری ہمت مردانہ پر

تو چراغ کشتہ ہے خاکستر پروانہ پر

آگ میں ہے تو سپند شوق جلنے کے لیے

شمع ماتم ہے شب غم میں پگھلنے کے لیے

گرمی ہنگامۂ محشر تری محفل میں ہے

سرد جو ہوتی نہیں وہ آگ تیرے دل میں ہے

کب گوارا آہ ہے سوز غم شوہر تجھے

ہے ہر اک تار نفس اک شعلۂ مضطر تجھے

اف ری شوہر کی چتا پر شعلہ افروزی تری

جیتے جی سوز محبت میں جگر سوزی تری

جاں گدازی کی ادا یہ شمع محفل میں کہاں

گرمی سوز وفا یہ شمع محفل میں کہاں

وہ چتا کی آتش جاں سوز، وہ دود سیاہ

شوہر مردہ کا سر وہ زانو نازک پہ آہ

آگ کے وہ ہائے شعلے اور وہ مکھڑا چاند سا

لب پہ کم کم شوخی برق تبسم کی ادا

ہلکا پھلکا جسم نازک پر دوپٹہ سرخ سرخ

وصل روحانی کی شادی سے وہ چہرہ سرخ سرخ

عالم دود سیہ وہ زلف عنبر فام میں

دوڑنے والے وہ شعلے حلقہ ہائے دام میں

آتش سوزاں میں بھی وہ آہ شوہر کا خیال

اور وہ دل میں گرمی ہنگامۂ شوق وصال

جل کے سوز اضطراب شوق میں پروانہ وار

خلد میں شوہر سے ہونا اف وہ خوش خوش ہمکنار

ڈال دینا وہ گلے میں ہنس کے بانہیں پیار سے

دل لبھا لینا ادائے شیوۂ گفتار سے

ہلکی ہلکی چاندنی کیفیت گل گشت باغ

وہ لب جو آہ حسن و عشق کے دو شب چراغ

تجھ پہ اے ناز آفریں شوہر پرستی ختم ہے

اک شرار آرزو میں تیری ہستی ختم ہے