Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سر کو تن سے مرے جدا کیجے

میر مہدی مجروح

سر کو تن سے مرے جدا کیجے

یہ بھی جھگڑا ہے فیصلہ کیجے

مجھ پہ تہمت صنم پرستی کی

شیخ صاحب خدا خدا کیجے

لعل کو اس کے لب سے کیا نسبت

یہ بھی اک بات ہے سنا کیجے

لو وہ آتے ہیں جلد حضرت دل

فکر صبر گریز پا کیجے

ہم غنیمت اسی کو سمجھیں گے

لو وفا وعدۂ جفا کیجے

اپنا کینہ بنوں کہ یاد رقیب

کس طرح اس کے دل میں جا کیجے

یاں تو مطلب ہی کچھ نہیں رکھتے

جو کسی سے کہیں روا کیجے

مدعی گھات ہی میں رہتے ہیں

کیوں کہ واں عرض مدعا کیجے

دکھ جو مجروحؔ نے سہے غم سے

اس کا کیا شرح ماجرا کیجے

مر گیا وہ پہ یاد آتا ہے

اس کا کہنا کہ آہ کیا کیجے

سخت مشکل ہے یار کا کھلنا

یہ گرہ کس طرح سے وا کیجے

صبر کے فائدے بہت ہیں ولے

دل ہی بس میں نہ ہو تو کیا کیجے

غیر کی پاسباں کی درباں کی

کس کی جا جا کے التجا کیجے

اس کی وہ آنکھ اب نہیں مجروحؔ

جلد کچھ اپنا سوجھتا کیجے