Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا

نسیم میسوری

سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا

سورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرا

ریش یعقوب نے رکھی ہے رخ یوسف پر

چشم بد دور کہ ہے زلف زلیخا سہرا

باغ الفت سے حسینوں نے جو کلیاں بینی

اس پری کے لئے پریوں نے بنایا سہرا

جدولیں سونے کی یاقوت رقم نے کھینچی

یا ہے مصحف پہ سر لوح مطلا سہرا

جلوۂ طور کا موسی کو گماں ہو جاتا

میرے نوشہ جو ذرا دیکھتے سر کا صحرا

شعلۂ حسن جو ان کا نہ چھپا سہرے میں

عجز سے آپ کو قدموں پہ گرایا سہرا

پوتے پڑپوتوں کے تم باندھیو سر کو سہرے

جیسا بابا نے تمہارے تمہیں باندھا سہرا

حب کا تعویذ بنے پھول ہر اک سہرے کا

وصل یار اس کو ہو جس نے ترا دیکھا سہرا

اوفتادہ بھی ہے یہ اور بڑا شوخ بھی ہے

گل رخسار کا لے لیتا ہے بوسہ سہرا

سہرا جو باندھتے ہیں ہند میں نوشاہوں کو

چشم بد کے لئے شاید ہے یہ نکلا سہرا

پنجۂ مہر سے زہرا نے بلائیں لے لیں

جب نسیمؔ چمن شوق نے لکھا سہرا