Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں

اشک رامپوری

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں

ہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیں

سیل غم آنکھ کے پردے میں نہاں رکھتے ہیں

ناتواں بھی ترے کیا تاب و تواں رکھتے ہیں

فرش رہ کس کے لئے ہم دل و جاں رکھتے ہیں

خوبرو پاؤں زمیں پر ہی کہاں رکھتے ہیں

بات میں بات اسی کی ہے سنو تم جس کی

یوں تو کہنے کو سبھی منہ میں زباں رکھتے ہیں

جب سے دشوار ہوا سانس کا آنا جانا

ہم نگاہوں میں جہان گزراں رکھتے ہیں

کس سے بے دردئ احباب کا شکوہ کیجے

نام بے تابئ دل کا خفقاں رکھتے ہیں

آنکھ کھولی ہے تو صیاد کے گھر کھولی ہے

ہم قفس پر ہی نشیمن کا گماں رکھتے ہیں

پھول بھی منہ سے جھڑیں بات بھی کانٹے کی رہے

یہ ادا اور سخن ساز کہاں رکھتے ہیں

لوگ روتے بھی ہیں تربت میں لٹا کر اے اشکؔ

اور سینے پہ بھی اک سنگ گراں رکھتے ہیں