Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سفید جھوٹ

سعادت حسن منٹو

ہاتھا پائی سے ہانپتے جانا

کھلتے جانے میں ڈھانپتے جانا

وہ ترا منہ سے منہ بھڑا دینا

وہ ترا جیب کا لڑا دینا

وہ ترا پیار سے لپٹ جانا

اور دل کھول کے چمٹ جانا

ہولے ہولے پکارنے لگنا

ڈھیلے ہاتھوں سے مارنے لگنا

منہ سے کچھ کچھ پڑے بکے جانا

چھوٹ جانے کے گوں تکے جانا

تھک کے کہنا خدا کے واسطے چھوڑ

نیند آئی ہے اب مجھے نہ جھنجوڑ

وہ ترا ڈھیلے چھوڑنا بے بس

وہ ترا سست ہو کے کہنا بس

بات باقی نہیں رہی اب تو

رات باقی نہیں رہی اب تو

کہیں تیری یہ بات نبڑے گی

یا یونہی ساری رات نبڑے گی

مجھ میں باقی کچھ اب تو بات نہیں

صبح بھی ہو چکی ہے رات نہیں

دیکھ اب آگے مار بیٹھوں گی

یا کسو کو پکار بیٹھوں گی

آدمی کی جو ریخ نکلے گی

منہ سے کیونکر نہ چیخ نکلے گی

کبھو پھر بھی تو کام ہو وے گا

دیکھیو کون ساتھ سووے گا

لب سے لب مرے ملائے رکھنا

بازو سے وہ سر اٹھائے رکھنا

وہ سینے پہ لیٹ کے ستانا

مطلب کہ سخن پہ روٹھ جانا

وہ منہ میں زبان کی لذتیں ہائے

ظاہر حرکت سے رغبتیں ہائے

اپنا جو ہوا کچھ اور ارادہ

جی چاہا کہ اس سے بھی زیادہ

وہ ہاتھ کو رکھ کے جوش انکار

وا کرنے نہ دینا بندِ شلوار

وہ ہاتھ کو دم بدم جھٹکنا

وہ تکئے پر سر کو دے پٹکنا

آہستہ لگانی آہ لاتیں

حیلہ کی وہ کیسی کیسی باتیں

وہ ہا تھ کو زور سے چھڑانا

وہ ہو کے تنگ کاٹ کھانا

وہ نیچے پڑے ہی تلملانا

قابو سے تڑپ کے نکلے جانا

وہ چیں بجبیں ہو کے کہنا

کن بے کسوں سے رو کے کہنا

بس تم کو یہی شغل دن رات

اچھی نہیں لگتی مجھ کو یہ بات

بھرتا ہی نہیں ہے تیرا جی بس

کرتا ہی نہیں ہے تو کبھی بس