Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سرسری بھی ہے کارگر بھی ہے

شاہ اکبر داناپوری

سرسری بھی ہے کارگر بھی ہے

یہ کٹاری بھی ہے نظر بھی ہے

کسے تاکا کسے کیا بسمل

او کماندار کچھ خبر بھی ہے

کون کہتا ہے گل نہیں سنتے

آہ بلبل میں کچھ اثر بھی ہے

گو مری داستاں ہے طول بہت

تم سنو تو یہ مختصر بھی ہے

مجمع البرزخین ہے انسان

یہ فرشتہ بھی ہے بشر بھی ہے

نذر ہے جو پسند آئے تمہیں

دل بھی موجود ہے جگر بھی ہے

وار تیری نگہ کا روکے کون

کہیں اس تیغ کی سپر بھی ہے

یہ بھی خدمت میں سر بلند رہے

آئنہ دار اک قمر بھی ہے

ان کے وعدوں کا کچھ یقین نہیں

گفتگو میں اگر مگر بھی ہے

غیر نے تیغ پر گلہ نہ دھرا

کوئی میرا سا بے جگر بھی ہے

غیر کیا معرکے میں آئیں گے

بزدلوں کا یہاں گزر بھی ہے

اٹھو اکبرؔ چلو مدینے کو

اس سے بہتر کوئی سفر بھی ہے