Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی

بیان میرٹھی

آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی

وہ نہ آئے تو قیامت ہوگی

حشر میں کون سنے گا فریاد

سد رہ حد سماعت ہوگی

ننگ نظارہ ہے ہم چشمۂ عام

ہم نہ دیکھیں گے جو رویت ہوگی

یک طرف ہو کے رہیں گے یک رنگ

ہم کو اعراف سے نفرت ہوگی

شکوہ ہے دین وفا میں احداث

مجھ سے کاہے کو یہ بدعت ہوگی

ہیں قیامت میں تامل کیا کیا

وصل کی کون سی ساعت ہوگی

ریگ ہوں چاہیے دریائے شراب

میکدے پر نہ قناعت ہوگی

ہے شب وصل دو عالم گیسو

وہ جبیں صبح شہادت ہوگی

بحر رحمت ہے دو عالم کو محیط

میرے مشرب کی سی وسعت ہوگی

مے سے آلودہ ہوا دامن حسن

متہم خون کی تہمت ہوگی

کھینچتا تھا کوئی ان کا دامن

خاک میں وصل کی حسرت ہوگی

راس ہے چارۂ بالمثل مجھے

قید سے اور بھی وحشت ہوگی

شعلہ رو پڑھتے ہیں کلمہ تیرا

شمع انگشت شہادت ہوگی

غیر کی آگ میں جلنے نہ دیا

حسن کی سی کسے غیرت ہوگی

واشدہ غنچۂ خاطر مت مانگ

منتشر بوئے محبت ہوگی

زہر لگتی ہے انہیں میری حیات

کیوں کہ منظور شہادت ہوگی

کھا گئے نرگس شہلا کا فریب

کہ ان آنکھوں میں مروت ہوگی

تیری زلفوں نے چڑھائے چلے

دل کی اس کوچہ میں تربت ہوگی

بن گئے سات جہنم تہ خاک

کس کے پہلو میں یہ حدت ہوگی

کہیں سر پھوڑ کے مر رہیے بیاںؔ

اک جہاں سے تو فراغت ہوگی