Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہو

Mushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)

شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہو

مرغ پھر کیا لڑے جو نوک نہ ہو

کہیں دیکھے ہی سادہ رو خونخوار

چشمۂ آئینہ میں جوک نہ ہو

وہی کوچہ بھلا کہ جس میں کبھو

دندنالوں کی روک ٹوک نہ ہو

نام گردوں پہ جس کا ہے پرویں

نیشکر کا یہ اس کے پھوک نہ ہو

رنڈی بازی وہ کیا کرے پھر خاک

پاس جس کے کتاب کوک نہ ہو

گلہ باید حریص شہوت را

ایک بکری سے شاد بوک نہ ہو

پیٹ کا بھاڑ ہے بلا نہ بھرے

خوب تا اس میں جھوکا جھوک نہ ہو

حسن مطرب ہے سن کے گانے کا

پیشہ لے جب گلے میں ڈوک نہ ہو

کیا پھنکیتی کا وہ کرے دعویٰ

مصحفیؔ یاد جس کو روک نہ ہو