Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو

اختر انصاری اکبرآبادی

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو

داستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھو

کیوں ہو تقلید کلیم آج بھی اے دیدہ ورو

دیدنی ہو کوئی جلوہ تو سنبھل کر دیکھو

شمع و پروانہ کا انداز نیا ہے کہ نہیں

ذکر تھا جس کا اب اس بزم میں چل کر دیکھو

اور بھی رخ نظر آئیں گے تجلی کے ابھی

رخ نگاہوں کے ذرا اور بدل کر دیکھو

اگلے وقتوں کے فسانے نہ سناؤ یارو

نئے ماحول کے سانچے میں بھی ڈھل کر دیکھو

کل کے انداز بھی دل کش تھے یہ تسلیم مگر

آج بھی شہر نگاراں میں نکل کر دیکھو

اپنے احباب کی جانب نہ اٹھاؤ نظریں

دیکھنا ہے اگر اخترؔ تو سنبھل کر دیکھو