Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں

نیر سلطانپوری

سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں

زخموں کا ایک باغ لیے پھر رہا ہوں میں

ڈر ہے کہ تیرگی میں قدم ڈگمگا نہ جائے

اک شہر بے چراغ لیے پھر رہا ہوں میں

ساقی نہ پوچھ آج کے شیشہ گروں کا حال

ٹوٹا ہوا ایاغ لیے پھر رہا ہوں میں

کیا جانے کس کے نام ہے یہ نامۂ کرم

ملتا نہیں سراغ لیے پھر رہا ہوں میں

پوچھے نہ جس کو حال نہ مستقبل حسیں

ماضی کا وہ دماغ لیے پھر رہا ہوں میں

نیرؔ ہو ایسے دور میں کیا روشنی کی بات

بن تیل کا چراغ لیے پھر رہا ہوں میں