Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا

بیتاب عظیم آبادی

شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا

ایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہا

جز تری یاد کے سب دل سے فراموش رہا

مرتے مرتے دیوانے کو یہ ہوش رہا

رخ پر نور سے بس ان کا الٹنا تھا نقاب

کون کمبخت تھا ایسا کہ جسے ہوش رہا

یہ بھی احساں ہے جو اس نے نہ دیا کوئی جواب

شوق امید کا حامی لب خاموش رہا

بے دھڑک سامنے محشر کی وہ آنہ تیرا

دیکھ لینا جو کسی ایک کو بھی ہوش رہا

کس سے فریاد ستم کرتے ملا جب کہ نہ تو

تو ملا جب تو ستم تیرا فراموش رہا

راز سر بستۂ مے خانہ نہ کھلنے پایا

آشنائے لب ساغر لب مے نوش رہا

درد رہ رہ کے مرے دل میں اٹھا کرتا ہے

تیرا احساں کہ تجھے میں نہ فراموش رہا

بار احساں ہے مرے سر پہ ترا او قاتل

سر جدا ہونے پہ بھی میں نہ سبک دوش رہا

درد اٹھتے ہی تڑپنے لگانا محرم راز

جو ادا سے تری واقف تھا وہ خاموش رہا

کیا کہوں موت نے کس راز کی دی آ کے خبر

بات ہی کچھ تھی وہ ایسی کہ میں خاموش رہا

جان بیتابؔ کی آخر شب تنہائی نے لی

تو کہاں شام سے او وعدہ فراموش رہا