Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگ

مرزا علی لطف

شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگ

پھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگ

شعلۂ شمع حرم حسن بتاں سے ہے خجل

مجھ کو خطرہ ہے کہ لگ جائے نہ بت خانے میں آگ

دیکھنا گرمی کی خوبی میری باری جب آئے

جائے مے ساقی نے بھر دی مرے پیمانے میں آگ

شیخ کی سمرن شماری میں کوئی گرمی نہیں

چشم بینا ہو تو ظاہر ہے ہر اک دانے میں آگ

آتشیں نالے وہ مجنوں کے مجھے آتے ہیں یاد

دیکھتا ہوں جو کہیں دہکے ہے ویرانے میں آگ

بے دماغی ہے بجا اس کے فسانے سے مری

خواب کیا لاوے وہ پنہاں ہو جس افسانے میں آگ

کب ہنسا تھا میں بھلا جلنے پہ پروانے کے لطفؔ

دفعتاً پھونکی مری جائے گی جو کاشانے میں آگ