Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میرا

وفا لکھنوی

آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میرا

ماہ کنعاں بھی نہیں حسن میں ہمسر میرا

دل قاتل سے پس قتل بھی نکلا نہ بخار

لاشہ تشہیر کیا کر کے جدا سر میرا

یار پھر جاتا ہے آ کر مرے دروازے سے

مجھ سے برگشتہ ہے کس درجہ مقدر میرا

راہ گم کردہ وہ خود پھرتا ہے اک مدت سے

کوئے الفت میں خضر خاک ہو رہبر میرا

نہیں معلوم کہ قاصد پہ مرے کیا گزری

آج قابو میں نہیں ہے دل مضطر میرا

میکدے پر مرا قبضہ ہو میں وہ مے کش ہوں

شیشہ میرا ہے سبو میرا ہے ساغر میرا

کیوں لگا رہنے دیا اے مرے قاتل تسمہ

ایک ہی وار میں کرنا تھا جدا سر میرا

آئیے آئیے دکھلائیے صورت اپنی

دم شب ہجر میں آیا ہے لبوں پر میرا

قتل ہوتے ہوئے جی بھر کے انہیں دیکھ لیا

حوصلہ آج تو نکلا تہ خنجر میرا

اے وفاؔ تھی جو تمنا مجھے پا بوسی کی

پائے قاتل پہ گرا ہو کے جدا سر میرا