Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں

سراج الدین ظفر

شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں

رقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

ساتھ اگر باد سحر دے تو پس محمل یار

اک بھٹکتی ہوئی آواز فغاں ہو جاؤں

اب یہ احساس کا عالم ہے کہ شاید کسی رات

نفس سرد سے بھی شعلہ بجاں ہو جاؤں

لا صراحی کہ کروں وہم و گماں غرق شراب

اس سے پہلے کہ میں خود وہم و گماں ہو جاؤں

وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں

ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

شوق میں ضبط ہے ملحوظ مگر کیا معلوم

کس گھڑی بے خبر سود و زیاں ہو جاؤں

ایسا انداز غزل ہو کہ زمانے میں ظفرؔ

دور آئندہ کی قدروں کا نشاں ہو جاؤں