Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شکایت

یوسف ظفر

شفق کی دلہن اپنے غرفے سے کب تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہے گی

سنہری لبادے کی زر کار کرنیں کہاں تک یوں ہی گنگناتی رہیں گی

کہاں تک زمرد کے پردے پہ یہ سرخ پھولوں کے نغمے مچلتے رہیں گے

کہ آخر کوئی چاند کوئی اندھیرا کسی شرق تیرہ کے در سے نکل کر

ابھی اس کو پہنائے گا تیرگی کا وہ جامہ کہ اس کی جواں ریت امنگیں

ستارے اڑاتی ہوئی ڈوب جائیں گی مغرب کی خاموش خونیں خلا میں

شفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہے

مجھے دیکھتی ہے

مرے دل کے بجھتے ہوئے سرخ شعلوں کی پرواز بے کار کو دیکھتی ہے

کہ یہ زندگی جو ودیعت ہوئی تھی کہ ہر سمت سیلاب نغمہ بہا دے

حصول مسرت کی خاطر ہر اک سنگ خارا کو اک مرمریں بت بنا دے

وہ بت جو ہر اک تان پر مسکرا دے ہر اک سمت سیلاب نغمہ بہا دے

ہر اک نغمہ تاریک راتوں کے سینوں کو یوں گدگدا دے

کہ تاریکیوں سے وہ انوار پھوٹیں جنہیں آفتاب سحر خود صدا دے

مگر اب یہی زندگی بجھ رہی ہے زمانے کے بیتاب آب رواں میں

شفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہے کسے دیکھتی ہے مجھے دیکھتی ہے

مجھے دیکھتی ہے تو میں اپنے غرفے کی بانہوں کو ملنے کی تاکید کر دوں

مرے پاس کوئی سنہری لبادہ نہیں ہے نہ کوئی زمرد کے پردے

مجھے اپنی دن بھر کی تھک ہار کر میرے پاس آنے والی دلہن سے غرض ہے

مری زرد رو ملتجی اور بے حس دلہن مجھ کو ایسے کہاں دیکھتی ہے

اسے اس سے کیا بجھ رہا ہوں دما دم دما دم پیاپے پیاپے و دما دم

اسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں ہے

اسے تو غرض اس سے ہے تھک چکی ہے گھریلو شب و روز کی الجھنوں سے

جہاں ہوں سنہری لبادوں کی کرنیں وہ زر کار کرنیں کہ جو گنگنائیں

جہاں ہوں زمرد کے پردوں پہ خوں رنگ پھولوں کے نغمے کہ جو مسکرائیں

جہاں نیلمی سرد غرفے ہوں غرفے

ذرا کھول دوں اپنے غرفے کی باہیں

شفق کی دلہن جا چکی ہے ہر اک سمت ہیں آسماں پرستاروں کے آنسو

ادھر آ ادھر آ مری زرد رو میری بے حس دلہن میری آغوش میں آ

کہ میں ڈر رہا تھا

مجھے دیکھتی تھی شفق کی دلہن تیرے ہوتے ہوئے بھی مجھے دیکھتی تھی

مجھے گھورتی تھی