Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں

Mir Taqi Mir (1723–1810)

آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں

روز برسات کی ہوا ہے یاں

جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھ

کہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں

گو کدورت سے وہ نہ دیوے رو

آرسی کی طرح صفا ہے یاں

ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر

ایسا کہ تم نے آ نکلا ہے یاں

رند مفلس جگر میں آہ نہیں

جان محزوں ہے اور کیا ہے یاں

کیسے کیسے مکان ہیں ستھرے

اک ازاں جملہ کربلا ہے یاں

اک سسکتا ہے ایک مرتا ہے

ہر طرف ظلم ہو رہا ہے یاں

صد تمنا شہید ہیں یکجا

سینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں

دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخ

روز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں

خانۂ عاشقاں ہے جاے خوب

جائے رونے کی جا بہ جا ہے یاں

کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش

آج تک کوئی بھی رہا ہے یاں

ہے خبر شرط میرؔ سنتا ہے

تجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں

موت مجنوں کو بھی یہیں آئی

کوہ کن کل ہی مر گیا ہے یاں