Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا

علی منظور حیدرآبادی

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا

سعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھا

طور کے لطف خصوصی کی قسم پہلے بھی

میرے دل پر اثر جلوہ گہ عام نہ تھا

دوست کے حسن توجہ سے نہیں شاداب تک

نگہ غم زدہ میں کیا کوئی پیغام نہ تھا

حسرت خوں شدہ ہر آن نئی شان میں تھی

رنگ جو صبح کو دیکھا وہ سر شام نہ تھا

دل لگی ہم سے کئے جاتے ہیں کیوں عیش پسند

کیا یہاں سوختہ کاموں کا کوئی کام نہ تھا

جانتا تھا جسے اپنی اسی محفل میں گیا

جا کے غیروں کی طرح منتظر جام نہ تھا

مے گساری کے لئے مل گئے ہم ذوق بہت

غم گساری کے لئے کوئی بھی ہم کام نہ تھا

اس زمانے میں بھی الہام ہے منظورؔ کا شعر

میں کسی دور میں حسرت کش الہام نہ تھا