Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں

مظفر علی اسیر

آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں

کون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیں

بزم کی کثرت سے اندیشہ مرے دل میں نہیں

دل میں اس کی ہے جگہ میرے جو محفل میں نہیں

پنجۂ مژگان تر نے یہ اڑائیں دھجیاں

تار باقی ایک بھی دامان ساحل میں نہیں

خون ناحق کا ہمارے داغ مٹنے کا نہیں

تیغ میں ہوگا اگر دامان قاتل میں نہیں

پردہ دار چہرۂ یوسف نہیں ہے ہر نقاب

حسن لیلیٰ جلوہ گر ہر ایک محفل میں نہیں

نجد کا صحرا عجب صحرائے وحشت خیز ہے

قیس کیا لیلیٰ کو بھی آرام منزل میں نہیں

جس طرف جی چاہے گا میرا نکل جاؤں گا میں

سیکڑوں دروازے ہیں حلقے سلاسل میں نہیں

حد سے باہر پاؤں جو رکھتا ہے ہوتا ہے خراب

گھر میں جو راحت مسافر کو ہے منزل میں نہیں

ڈوبتے جاتے ہیں کیوں کر لوگ حیرت ہے مجھے

قد آدم آب بحر تیغ قاتل میں نہیں

ہو گیا دہشت سے ایسا بسملوں کا خون خشک

ایک بھی دھبا لہو کا تیغ قاتل میں نہیں