Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے

محمد علی جوہر

عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے

غیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہے

خوگر قید وفا پر کھل چکا زنداں کا راز

جرم تھی وہ قید یہ اس جرم کی تعزیر ہے

بے گناہی سے بھی بڑھ کر ہے اگر کوئی گناہ

تو سزائے عشق پا کر خجلت تقصیر ہے

چھوڑ میری فکر غافل رو خود اپنی قید پر

جس کو تو زیور سمجھتا ہے وہی زنجیر ہے

سجن و جنت دونوں اے کافر ہیں اس دنیا کے نام

وہ ازل سے بخت مومن یہ تری تقدیر ہے

دار ہی بنتی ہے اے دل زینۂ معراج عشق

خواب آغاز محبت کی یہی تعبیر ہے

ہو نہ الجھن جب جنون جامہ ور کامل نہ ہو

جب تلک دامن ہے خار دشت دامن گیر ہے

ہاتھ تو ہوں گے قلم پر نامہ بر یہ بھی کہا

دل چرا لیتی ہے پہلو سے یہ وہ تحریر ہے

پائیداری میں ہے قصروں سے سوا کچی سی قبر

جو قیامت تک رہے قائم یہ وہ تعمیر ہے

خون ناحق کا کسی کے شبہ اور تم پر مگر

سینۂ جوہرؔ میں دیکھو تو یہ کس کا تیر ہے