Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کا

ماسٹر باسط بسوانی

عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کا

لئے سر پر پھرا کرتا ہے ڈھانچہ چارپائی کا

کبھی تم مجھ کو دھر پٹکو کبھی میں تم کو دے ماروں

مزا اس وقت ہے اے جان جاں اس ہاتھا پائی کا

یہ کیا پڑھ پڑھ کے دم کرتے ہو چپکے سے حسینوں پر

اٹھا ہی چاہتا ہے شیخ پردہ پارسائی کا

سر محفل رقیب رو سیہ کا ٹیٹوا پکڑا

مچایا شور بزدل نے دہائی کا تہائی کا

تمہیں جب میں نے دھر ڈپٹا تو کوئی بھی نہیں بولا

بہت ہی دم بھرا کرتے تھے اعدا آشنائی کا

میں دل پر چوٹ کھاؤں ان پری رویوں کے ہاتھوں سے

مجھے نسخہ اگر کوئی بتا دے مومیائی کا

سر محفل ہر اک سے بے جھجھک آنکھیں لڑاتا ہے

اٹھایا ہے بت پر فن نے کیا بیڑا ڈھٹائی کا