Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

بیتاب عظیم آبادی

عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

کچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچے

عشق کے شعلے بھڑک کر رگ جاں تک پہنچے

آگ سی آگ ہے یہ آگ جہاں تک پہنچے

لڑ گئی ان سے نظر کھچ گئے ابرو ان کے

معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے

دل سے باہر ہو ترا راز گوارا ہے کسے

یہ کوئی بات نہیں ہے کہ زباں تک پہنچے

مار لے وہ نگۂ ناز تو رتبہ ہو بلند

سر ہو اونچا مرا گر نوک سناں تک پہنچے

کوئی دیوانگئ عشق کا قصہ چھیڑے

سلسلہ اس کا خدا جانے کہاں تک پہنچے

سرخیٔ خار بیاباں یہ پتہ دیتی ہے

کہ ادھر سے ترے دیوانے یہاں تک پہنچے

رند پر کیف بہ یک گردش چشم ساقی

غایت دائرۂ کون و مکاں تک پہنچے

رخ سے پردہ کو ہٹا حسن یقیں تک پہنچا

آخر انسان ہوں یوں عقل کہاں تک پہنچے

راہ میں اور بھی دیوانوں سے ملتے جلتے

پوچھتے پوچھتے ہم ان کے مکاں تک پہنچے

شربت دید نہ ہو تیغ کا پانی ہی سہی

کوئی ٹھنڈک تو مرے قلب تپاں تک پہنچے

لے گئے عشق کی بازی پہ صفائی بیتابؔ

جان پر کھیل گئے جان جہاں تک پہنچے