Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا

شبلی نعمانی

اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا

گئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کا

بھلی تھی تقدیر یا بری تھی یہ راز کس طرح سے عیاں ہو

بتوں کو سجدے کئے ہیں اتنے کہ مٹ گیا سب لکھا جبیں کا

وہی لڑکپن کی شوخیاں ہیں وہ اگلی ہی سہی شرارتیں ہیں

سیانے ہوں گے تو ہاں بھی ہوگی ابھی تو سن ہے نہیں نہیں کا

یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے

کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا