Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر

بیاں احسن اللہ خان

فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر

واں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر

ہے اس جواں کی بات میں اب تو لہو کی باس

وے دن گئے کہ آتی تھی اس منہ سے بوئے شیر

ہوتے ہی صبح آہ گیا ماہ چار دہ

ثابت ہوا مجھے کہ نمک ہے عدوئے شیر

حسرت ہی دل میں کوہ کن آخر یہ لے گیا

شیریں نے اپنی آنکھوں بھی دیکھا نہ روئے شیر

اس دودھ کا خدا کرے کاسہ ہمیں نصیب

جنت میں پنج تن کی جو بہتی ہے جوئے شیر

عاشق ہیں اپنے خون جگر خوار زہر نوش

رغبت طرف شکر کے ہے ان کو نہ سوئے شیر

جن کو بغیر سعی وہ شیریں دہن ملے

کھو دیں نہ کوہ وہ نہ کریں جستجوئے شیر

ملتے ہی اس سے دل کی گرہ میرے کھل گئی

عقدے شکر کے جیسے کھلیں روبروئے شیر

پھر دودھ کی بڑھاپے میں آوے نہ منہ سے باس

آخر کہاں تلک یہ بیاںؔ گفتگوئے شیر