Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی

سید یوسف علی خاں ناظم

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی

یہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کی

اے یار تیرے لب پہ تبسم نہیں نمود

پیدا ہے ماہ نو سے کرن آفتاب کی

آیا مژہ پہ لخت دل بے قرار یاد

گردش جو ہم نے سیخ پہ دیکھی کباب کی

تیری کدورتوں نے مجھے خاک کر دیا

تیرے غبار نے مری مٹی خراب کی

میری خطائیں آ نہیں سکتی شمار میں

گنتی ہو کیا ترے کرم بے حساب کی

ساقی ترے کرم سے یہ امید ہے مجھے

ہو روز حشر ہاتھ میں بوتل شراب کی

مستان عشق آئے تعلی پر اے فلک

اب خیر مانگ تو قدح آفتاب کی

نشہ زمیں سے سوئے فلک لے اڑا مجھے

ساقی شراب نے مری مٹی خراب کی

دو روز جا کے آبنہ‌ رویوں کی بزم میں

کیا شکل ہو گئی دل خانہ خراب کی

بجلی نہیں تڑپتی ہے اے دل یہ آسمان

پرواز اڑا رہا ہے ترے اضطراب کی

ابرو کی تیغ سے جو بچا میں تو یار نے

برچھی لگائی بڑھ کے نگاہ عتاب کی

اللہ رے اثر مری بخت سیاہ کا

پیری میں احتیاج نہیں ہے خضاب کی

ناظمؔ مرے گناہ ہیں باہر حساب سے

تشویش کچھ نہیں مجھے روز حساب کی