Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤں

منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی

قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤں

مر کر ہی تاکہ سو تو ذرا پاؤں تن کے پاؤں

کیوں کر رکھوں میں سیر کو اندر چمن کے پاؤں

اک عمر سے تو ہو رہے خوگر ہیں بن کے پاؤں

بھاری ہیں نازکی سے جو مہندی میں سن کے پاؤں

کہتے ہیں کر دیے مرے کیوں لاکھ من کے پاؤں

کیا ساتھ میرا دشت نوردی میں کر سکے

دو چار چوکڑی میں گئے تھک ہرن کے پاؤں

ہاتھوں کو ہے ہوا سے گریباں دری ہنوز

صحرا طلب ہیں مر کے بھی اندر کفن کے پاؤں

آنا ہے دیر دیر تو جانا ہے جلد جلد

رفتن کے اور ہیں ترے اور آمدن کے پاؤں

صدمہ سے ہاتھ کے کہیں گٹا اتر نہ جائے

کیوں کر دباؤں اس بت نازک بدن کے پاؤں

اے دل تو دیکھ اس کی سر زلف میں نہ جا

ناداں ہے سر پہ جو رکھے کالے کے پھن کے پاؤں

کچھ آج یہ بھی آتا ہے رندو پئے ہوئے

پڑتے ہیں بہکے بہکے جو شیخ زمن کے پاؤں

پہنچا ہے اب تو سحرؔ کلام اپنا دور دور

شہرت سے لگ گئے ہیں ہمارے سخن کے پاؤں