Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

شیر سنگھ ناز دہلوی

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

جو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہوا

تھامنا مشکل دل مضطر کو شام غم ہوا

یاد آتے ہی کسی کی حشر کا عالم ہوا

کیا بتائیں کس طرح گزری شب وعدہ مری

منتظر آنکھیں رہیں دل کا عجب عالم ہوا

دیکھتے رہتے ہیں اس میں سارے عالم کا ظہور

آئینہ دل کا ہمارے رشک جام جم ہوا

وہ عدو کو ساتھ لائے ہیں مرے گھر دیکھیے

شربت دیدار کے نسخے میں داخل سم ہوا

آپ کے تیر نظر سے دل کا بچنا ہے محال

جس کو دیکھا آنکھ بھر کر بس وہی ہم دم ہوا

کس قدر تسکین رنجور محبت کو ہوئی

پیار سے دیکھا جو اس نے زخم کو مرہم ہوا

جب اٹھایا یار نے روئے منور سے نقاب

گر پڑا غش کھا کے کوئی اور کوئی بے دم ہوا

گلشن ہستی میں انساں کی نہیں کچھ زندگی

جو ہوا پیدا مثال قطرۂ شبنم ہوا

گیسوئے پر خم ہوئے ان کے پریشاں سوگ میں

میرے مرنے سے دیار حسن میں ماتم ہوا

بعد مرنے کے ہوا دنیا میں یوں مشہور نازؔ

شان سے تابوت اٹھا دھوم کا ماتم ہوا