Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے

رجب علی بیگ سرور

قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے

مصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنے

جنت ہے گرد کوچۂ جاناں کے سامنے

دوزخ ہے سرد سینۂ سوزاں کے سامنے

سکتہ ابھی ہو روح سکندر کو شرم سے

آئینہ آئے گر ترے حیراں کے سامنے

بہر امید گر اسے پھیلاؤں سوئے یار

دامان دشت تنگ ہو داماں کے سامنے

دست جنوں سے وہ بھی نہ وحشت میں بچ سکا

پردہ جو کچھ رہا تھا گریباں کے سامنے

مشاطہ ہو عزیز زلیخا اگر وہ لائے

اس مہر مصر کو مہ کنعاں کے سامنے

نادان کہہ رہے ہیں جسے آفتاب حشر

ذرہ ہے اس کے روئے درخشاں کے سامنے

دم بند اس لتوڑے کی جرأت نے کر دیا

کرتا ہے ریز بلبل بستاں کے سامنے

دیوار سرخ خون سے دیکھی پتا ملا

قاصد ٹھہر گیا در جاناں کے سامنے

کہتے ہیں روز وصل جسے پست حوصلہ

بے قدر ہے مری شب ہجراں کے سامنے

تقریر دل جلاتی ہے سننے سے اے سرورؔ

آتا ہے کون مجھ شرر افشاں کے سامنے