Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیں

مفتی صدر الدین خان آزردہ

مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیں

کیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیں

آنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا

کہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں

اٹھ کر سحر کو سجدۂ مستانہ کے سوا

طاعت قبول خاطر پیر مغاں نہیں

افسردہ دل ہو در در رحمت نہیں ہے بند

کس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں

اے جذب شوق رحم کہ مد نظر ہے یار

جا سکتی واں تلک نگہ ناتواں نہیں

شب اس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح

ہیں لب تو کیا نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں

کٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق

شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں

اچھا ہوئی نکل گئی آہ حزیں کے ساتھ

اک قہر تھی بلا تھی قیامت تھی جاں نہیں

جانے ہے دل فلک کا مری سخت جانیاں

ان ناتوانیوں کو پہنچتی تواں نہیں

کہتا ہوں اس سے کچھ میں نکلتا ہے منہ سے کچھ

کہنے کو یوں تو ہے گی زباں اور زباں نہیں

مہکا ہوا ہے بیت حزن دیکھنا کوئی

آیا نسیم مصر کا ہو کارواں نہیں

لب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں

تھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں

کیا کچھ نہ کر دکھاؤں پر اک دن کے واسطے

ملتا بھی ہم کو منصب ہفت آسماں نہیں

وہ شاخ نخل خشک ہوں میں کنج باغ میں

دیکھے ہے بھول کر بھی جسے باغباں نہیں

بے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں

ہم پیرو پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں

آزردہؔ نے پڑھی غزل اک مے کدہ میں کل

وہ صاف تر کہ سینہ پیر مغاں نہیں