Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا

مجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کا

انہیں شوق دل آزاری ہمیں ذوق وفاداری

خدا حافظ ہے اب اپنے کشور کار الفت کا

وصال یار کی اے دل کوئی پر زور کوشش کر

ہوائے آہ سے پردہ اٹھا دے شام فرقت کا

دل پر شوق نے ڈالا ہے مجھ کو کس کشاکش میں

ادھر ہے حد کی بے صبری ادھر وعدہ قیامت کا

تم ایسے بے خبر بھی شاذ ہوں گے اس زمانے میں

کہ دل میں رہ کے اندازہ نہیں ہے دل کی حالت کا

جہاں میں چار دن رہ کر فقط بوئے وفا دینا

گلوں سے میں سبق لیتا ہوں آئین صحبت کا

لگا رکھتا ہے اس کی نذر کو چشم تمنا نے

وہ اک آنسو کہ مجموعہ ہے ساری دل کی طاقت کا

مری قدرت سے اب اخفائے راز عشق باہر ہے

کہ رنگ آنے لگا ہے آنسوؤں میں خون حسرت کا

اک آہ سرد بھر لیتا ہوں جب تم یاد آتے ہو

خلاصہ کس قدر میں نے کیا ہے رنج فرقت کا

وہ دل ہے بزم عالم میں نظرؔ اک ساز بشکستہ

نہ چھیڑے تار ہستی پر جو نغمہ اس کی قدرت کا