Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شراب

میر مہدی مجروح

مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شراب

دوزخ میں ڈال دیجئے دیجے مگر شراب

زاہد کے بخت بد کی ہے خوبی وگرنہ کیوں

چھوڑے کوئی شراب کی امید پر شراب

توبہ تو ہم نے کی ہے پر اب تک یہ حال ہے

پانی بھر آئے منہ میں دکھا دیں اگر شراب

گویا شراب ہی سے بھرا عمر کا قدح

موت اس کی خوب ہے جو پیے عمر بھر شراب

سمجھا نہیں کہ جیتے ہیں مردے اسی طرح

چھڑکے وگرنہ کیوں وہ مری خاک پر شراب

ہے لطف زیست یہ کہ وہ بیٹھا ہو روبرو

بکھرے ہوں پھول ادھر تو دھری ہو ادھر شراب

بے خود کیا جہاں کو تری چشم مست نے

تھی کیسی اس پیالے میں اے فتنہ گر شراب

چشم سیاہ مست نگہ مست آپ مست

پیتا ہے دل لگی کو بت عشوہ گر شراب

توبہ میں ہم نہ کھائیں گے الزام کیا ہوا

اک آدھ یار پی گئے گر بھول کر شراب