Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں

بیخود موہانی

اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں

کہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میں

زمیں والے جو کہتے ہیں کہ اب کیا پیس ڈالے گا

تو ملتا ہے جواب اس کا کہ دور آسماں ہوں میں

میں سمجھاتا ہوں جب دل کو تو کہتا ہے متانت سے

زمانے کی زباں تو ہے حقیقت کی زباں ہوں میں

مری تصویر میرا بت مرا مرقد ہے تن میرا

کبھی تھا تو اسی دنیا میں لیکن اب کہاں ہوں میں

تری غیرت کو اے ناز ستم گر کیا ہوا آخر

ترے ہوتے ہوئے ممنون جور آسماں ہوں میں

قیامت کر گیا بار امانت کا اٹھا لینا

حریف ماسوا ہوں مبتلائے امتحاں ہوں میں

نہ جب اٹھا تھا دل دنیا سے ذرہ ذرہ دل کش تھا

مگر اب آشیاں ہر جا ہے پر بے آشیاں ہوں میں

نظر آتا ہے ہر منبر پہ مجھ کو اک نیا واعظ

جہاں رندوں کا مجمع ہو وہاں پیر مغاں ہوں میں

مری قسمت میں اے بیخودؔ کہاں منزل کی آسائش

غبار راہ ہوں بانگ درائے کارواں ہوں میں