Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا

مرزا مسیتابیگ منتہی

مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا

شمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیا

گر پڑے عشاق اس کی تیغ خوں آشام پر

کل شہادت کے طلب گاروں کا دنگا ہو گیا

دفن کر کے فاتحہ پڑھ کے مرا بولا وہ شوخ

آج بیمار محبت میرا چنگا ہو گیا

بزم میں جل کر کیا شب راز الفت آشکار

شمع کے مانند پروانہ بھی ننگا ہو گیا

گر کے اس کے کوچۂ تاریک میں نکلا نہ دل

پیچ زلف یار کا مجھ کو اڑنگا ہو گیا

وصف دیر و کعبہ کا ہم نے جداگانہ کیا

ایک ہی مضمون تھا فقرہ دو رنگا ہو گیا

بڑھتے بڑھتے اپنا طول زندگانی کم ہوا

گھٹتے گھٹتے جامۂ ہستی اٹنگا ہو گیا

خوش نما ہے اس رخ روشن پہ کیا خال سیاہ

زیب گلزار ارم کا لا بھجنگا ہو گیا

شاہ ہفت اقلیم سے اے دل گدائے دہر تک

ڈھنگ سے آیا وہاں سے یاں کڈھنگا ہو گیا

جس قدر وہ مجھ سے بگڑا میں بھی بگڑا اس قدر

وہ ہوا جامہ سے باہر میں بھی ننگا ہو گیا

یوں کہیں گے یار اقلیم سخن میں ان دنوں

منتہیؔ بھی ایک ہی کٹا دبنگا ہو گیا