Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایا

ناطق لکھنوی

مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایا

گرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کر

مصیبت آ تو گئی تھی لیکن ہوئی وہ آپ الٹے پاؤں رخصت

لگا جو تھا زندگی کا کانٹا نکل گیا چار دن کھٹک کر

وہاں ہیں اب ہم کہ کیا بتائیں وہ پیچ و خم ہیں کہ کچھ نہ پوچھو

یہ چال راہ طلب کی دیکھو کہ چل رہی ہے مٹک مٹک کر

یہ کیسی وحشت اثر خبر ہے پتا تو اے باغباں لگانا

کھڑے ہوئے کان کیوں گلوں کے کلی نے کیا کہہ دیا چٹک کر

کیا جو ڈر ڈر کے عرض مطلب تو مجھ سے یہ کہہ دیا انہوں نے

سبق نہیں یاد ابھی یہ تم کو سنا رہے ہو اٹک اٹک کر

خود اپنا رستہ سدھار ناطقؔ نہ فکر کر شیخ و برہمن کی

وہیں تو جاتے ہیں راستے سب کوئی کہاں جائے گا بھٹک کر