Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں

آغا شاعر قزلباش

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں

دو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیں

پھولوں کی سیج پھولوں کی ہیں بدھیاں کہیں

کانٹوں پہ ہم تڑپتے ہیں او آسماں کہیں

جاتے کدھر ہو تم صف محشر میں خیر ہے

دامن نہ ہو خدا کے لیے دھجیاں کہیں

پہرا بٹھا دیا ہے یہ قید حیات نے

سایہ بھی ساتھ ساتھ ہے جاؤں جہاں کہیں

بس مجھ کو داد مل گئی محنت وصول ہے

سن لے غزل یہ بلبل ہندوستاں کہیں

شاعرؔ وہ آج پھر وہیں جاتے ہوئے ملے

دشمن کے سر پہ ٹوٹ پڑے آسماں کہیں