Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کر

پنڈت ہری چند اختر

مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کر

زمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کر

کھٹک جاتے ہیں چشم برق میں میرا نشاں ہو کر

غضب ڈھاتے ہیں یعنی چند تنکے آشیاں ہو کر

سن اے جوش جنوں تقلید مجنوں کی نہیں اچھی

مبادا ہم بھی رہ جائیں کسی دن داستاں ہو کر

دما دم شعبدے ہم کو دکھاتا ہے کوئی جلوہ

کہیں شیخ حرم ہو کر کہیں پیر مغاں ہو کر

ان آنکھوں سے بہار باغ دنیا دینے والو

یہ آنکھیں رنگ لائیں گی کسی دن خوں فشاں ہو کر

اجی کیا شمع کیا پروانہ دونوں جل بجھے آخر

کوئی آتش فشاں ہو کر کوئی آتش بجاں ہو کر

خدا محفوظ رکھے یہ حسیں دل لے ہی لیتے ہیں

کسی پر مہرباں ہو کر کسی سے سرگراں ہو کر

نہ پایا اور کچھ بھی جز خدا کعبے میں اے اخترؔ

بہت نادم ہوئے ہم بت کدے سے بد گماں ہو کر