Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مرغابی

سرور جہاں آبادی

ڈھل گیا دن اور شبنم ہے زمیں پر قطرہ ریز

گوشۂ مغرب میں گلگوں ہے شفق سے آسماں

پڑ رہی ہیں دور تک سورج کی کرنیں زرد زرد

جا رہی ہے تو اکیلی شام کو اڑتی کہاں

دیکھتا ہے کیوں عبث صیاد سوئے آسماں

یاس کی نظروں سے تیری شوکت پرواز کو

ارغواں زار فلک کے منظر خوش رنگ نے

کر دیا ہے اور دل کش تیرے نقش ناز کو

ڈھونڈتی پھرتی ہے کیا کوئی سہانا آبشار

یا کہ سر گرم تلاش دامن دریا ہے تو

یا کسی بحر تموج خیز کی ہے جستجو

یوں سکوت شام میں کیوں آسماں پیما ہے تو

تو جو بے سنگ نشان جادہ و بے مرحلہ

کر رہی ہے آسماں پر قطع طبقات ہوا

اڑ سکے بے بدرقہ تو یہ کہاں تیری مجال

کوئی طاقت ہے مگر تیری مقرر رہنما

اے سبک پرواز! تیری سرعت پرواز نے

طے کئے کتنے ہی دن بھر سرو طبقات نسیم

ہو کے داماندہ زمیں پر گر نہ شہ پر جوڑ کر

شب کی ظلمت کا ہے گرچہ سر پہ طوفان عظیم

ہو چکی تیری مشقت ختم تجھ کو عن قریب

گرمیوں کا اک سہانا گھر ملے گا خوش گوار

گاتی ہوگی چھوٹی چڑیوں میں ہم آہنگی سے تو

اور نشیمن پر ترے ہوگی نیستاں کی بہار

ہو گئی غائب فضائے آسماں میں گرچہ تو

اور اب آنکھوں میں ہے تیرا تصور یادگار

میں نے سیکھا ہے سبق لیکن تری پرواز سے

ہے طریق زندگی میں تو مری آموز گار

منطقہ سے منطقہ تک اے سبک پرواز شوق

وسعت اوج فلک پر ہے جو تیرا راہبر

مجھ کو بھی لے جائے گا وہ منزل مقصود تک

جب کروں گا جادۂ ہستی سے میں تنہا سفر