Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا

فروغ حیدرآبادی

مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا

لیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیا

رہی ہے بعد مردن بھی تمہاری جستجو کیا کیا

غبار خاک مرقد اڑ رہا ہے چار سو کیا کیا

کبھی عاشق کو سمجھایا کبھی غیروں کو بہلایا

فریب آمیز ہیں چالیں تری او حیلہ جو کیا کیا

رہائی دی مجھے قید علائق سے عنایت کی

کسی کی تیغ کا ممنون ہے میرا گلو کیا کیا

بہاریں لوٹتا ہوں آپ کے تشریف لانے میں

پھلا پھولا ہے میرا آج نخل آرزو کیا کیا

تمہیں بھی یاد ہیں کچھ قول و اقرار و قسم اپنے

ہوئی تھی درمیاں میرے تمہارے گفتگو کیا کیا

خیال ہجر سے حالت تغیر ہوتی جاتی ہے

اڑا جاتا ہے میرے دل سے رنگ آرزو کیا کیا

تمہارے واسطے سن لیتے ہیں ہر ایک کی باتیں

ہمیں کہہ جاتے ہیں باتوں ہی باتوں میں عدو کیا کیا

عدو کی منتیں کی ہیں قدم چومے ہیں درباں کے

فروغؔ بے سر و ساماں ہوا بے آبرو کیا کیا