Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مقصد حیات

حاجی لق لق

زندگی اپنی نمائش گاہ مصنوعات ہے

چار دن بجلی کے لیمپ اور پھر اندھیری رات ہے

آئے ہیں دنیا میں کوئی کام کرنے کے لیے

کچھ خدا سے اور کچھ بیوی سے ڈرنے کے لیے

ہے جوانوں کے لیے سنما میں جانا زندگی

جیب میں پائی نہ ہو ٹائی لگانا زندگی

مہ وشوں سے باغ میں آنکھیں لڑانا زندگی

غسل خانے میں اکیلے گنگانا زندگی

عشق بازی اور موسیقی نہیں تو کچھ نہیں

اور کچھ کچھ مے سے دلچسپی نہیں تو کچھ نہیں

شعر کہنا بھی بنا جاتا ہے جزو زندگی

نام چھپ جانا رسالے میں ہے حد شاعری

نثر میں اشعار کہہ لینا ہے اک صنعت نئی

اور اگر یہ بھی نہیں خالی تخلص ہی سہی

نام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے

شعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے

زندگی کا ایک مقصد لیڈری کرنا بھی ہے

چندہ کھا کر قوم کی الفت کا دم بھرنا بھی ہے

ملک پر جاں دینا لفظی طور پر مرنا بھی ہے

اس پہ مردہ باد کے نعروں سے کچھ ڈرنا بھی ہے

بن کے لیڈر سو رہے تو زندگی کس کام کی

امن قائم ہو گیا تو لیڈری کس کام کی

مقصد حجام ہے عورت بنانا مرد سے

مقصد اپنا ہے ڈرانا بت کو آہ سرد سے

زندگی کے اور مقصد بھی ہیں انساں کے لیے

کوئی ایواں کے لیے ہے کوئی زنداں کے لیے

کوئی گلشن کے لیے کوئی بیاباں کے لیے

اور یہ لق لقؔ ہے تو افکار پریشاں کے لیے

رات دن اس کا قلم مصروف لقلقیات ہے

چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے