Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا

اس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھا

تمہید تھی جنوں کی گریباں ہوا جو چاک

یعنی یہ خیر مقدم فصل بہار تھا

بننے لگے ہیں داغ ستارے خوشا نصیب

تاریک آسمان شب انتظار تھا

تھے زندگی کے ساتھ محبت کے کاروبار

آخر کسی کے در پہ ہمارا مزار تھا

مرنے پہ بھی کٹا نہ عذاب غم فراق

کنج لحد خلاصۂ شب ہائے تار تھا

آغاز عشق ہی میں مجھے چپ سی لگ گئی

اک بات بھی نہ کی کہ نفس رازدار تھا

کیا لطف دے گیا وہ فریب وفا کا دور

گویا کسی کے دل پہ ہمیں اعتبار تھا

دنیا سے رہ روان محبت گزر گئے

اس کارواں کا عالم ہستی غبار تھا

چھٹ کر قفس سے میں نہ گیا سوئے بوستاں

آخر فریب خوردۂ فصل بہار تھا

اک آہ گرم ہم نے بھری تھی شب فراق

جل کر سحر کو خاک دل بے قرار تھا

فرصت ملی نہ ہم کو تماشائے دہر کی

ہر ذرہ حسن یار کا آئینہ دار تھا

اک لخت دل بچا تھا مگر وہ بھی اے نظرؔ

آخر کو نذر دیدۂ خوں نابہ یار تھا