Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے

احسن مارہروی

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے

سو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائے

اس طرح قرب ترا اور بھی آساں ہو جائے

میرا ایک ایک نفس کاش رگ جاں ہو جائے

وہ کبھی صحن چمن میں جو خراماں ہو جائے

غنچہ بالیدہ ہو اتنا کہ گلستاں ہو جائے

عشق کا کوئی نتیجہ تو ہو اچھا کہ برا

زیست مشکل ہے تو مرنا مرا آساں ہو جائے

جان لے ناز اگر مرتبۂ عجز و نیاز

حسن سو جان سے خود عشق کا خواہاں ہو جائے

میرے ہی دم سے ہے آباد جنوں خانۂ عشق

میں نہ ہوں قید تو بربادی زنداں ہو جائے

ہے ترے حسن کا نظارہ وہ حیرت افزا

دیکھ لے چشم تصور بھی تو حیراں ہو جائے

دید ہو بات نہ ہو آنکھ ملے دل نہ ملے

ایک دن کوئی تو پورا مرا ارماں ہو جائے

میں اگر اشک ندامت کے جواہر بھر لوں

توشۂ حشر مرا گوشۂ داماں ہو جائے

لے کے دل ترک جفا پر نہیں راضی تو مجھے

ہے یہ منظور کہ وہ جان کا خواہاں ہو جائے

اپنی محفل میں بٹھا لو نہ سنو کچھ نہ کہو

کم سے کم ایک دن احسنؔ پہ یہ احساں ہو جائے