Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا

عاشق حسین بزم آفندی

مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا

سب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیا

منظور دل کا تھا انہیں لینا سو لے چکے

اب کیوں وہ پاس آئیں گے مطلب نکل گیا

قسمت تو دیکھیے جو شب وصل آئی بھی

شکوے شکایتوں ہی میں سب وقت ٹل گیا

آتے ہی فصل گل کے جنوں کا ہوا یہ جوش

باقی ہیں بعد قتل بھی الفت کی گرمیاں

دل کی تڑپ نہ کم ہوئی گو دم نکل گیا

ان کی نگاہ قہر سے اب کیا بچے گا دل

پلٹا نہیں جو تیر کماں سے نکل گیا

اس ڈر سے نالہ کر نہیں سکتا فراق میں

مر جاؤں گا جو وہ دل نازک دہل گیا

کانٹوں کی آبلوں سے غنیمت تھی نوک جھونک

وحشی کا تیرے دشت میں کچھ جی بہل گیا

ثابت قدم ہمیں ہیں نہ غیروں کو منہ لگاؤ

کوئی نہ ہوگا ان میں سے جوبن جو ڈھل گیا

اے بزمؔ مجھ سے کرتے وہ اقرار وصل کیا

وہ تو یہ کہئے ان کی زباں سے نکل گیا