موت
Allama Iqbal (1877–1938)لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دِل ناصُبور رہتا ہے
مہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَس
میٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!
Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دِل ناصُبور رہتا ہے
مہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَس
میٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!