Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں

میر محمد سلطان عاقل

ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں

کدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیں

نہ باز رکھ ہم کو رونے سے تو گریں جو اشکوں کے دانے بہتر

یہ کشت حسرت میں اپنی ہمدم امید کا تخم بو رہے ہیں

ادھر ترقی خیال کو ہے ادھر ترقی جمال کو ہے

وہاں تو مد نظر ہے سرمہ یہاں تصور میں رو رہے ہیں

جہاں ہوا طفل کوئی پیدا کہا یہ ماں نے ابوالبشر کی

مری بھی آغوش ہے کشادہ عبث یہ سامان ہو رہے ہیں

کیا ہے بے جرم قتل مجھ کو ہجوم اغیار و آشنا میں

اور اس پہ دیکھو ڈھٹائی اشکوں سے دامن اپنا بھگو رہے ہیں

نہ پوچھو کچھ معصیت کا عالم فرشتو ہم کیا کہ تم نے بچتے

حقیقت اس کی انہیں سے پوچھو سرائے دنیا میں جو رہے ہیں

خبر وصال عدو کی سن کر وصال کے معنی سوچتے ہیں

انہیں کو واں کچھ نہیں ہے شادی کہ خوش یہاں ہم بھی ہو رہے ہیں

گلہ عبث ان سے کیجے عاقلؔ کیا ہے قسمت نے ان کو غافل

جو در پہ جا کر پکارا میں نے تو بولے کہہ دو کہ سو رہے ہیں