Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں

گویا فقیر محمد

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں

اک پردہ نشیں کا مبتلا ہوں

کیا ہجر میں ناتواں ہوا ہوں

تنکا نہ اٹھے وہ کہربا ہوں

تیری سی نہ بو کسی میں پائی

سارے پھولوں کو سونگھتا ہوں

بلبل ہے چمن میں ایک ہم درد

میں بھی کسی گل کا مبتلا ہوں

آئینہ ہے جسم صاف اس کا

کیونکر نہ کہے میں خود نما ہوں

کہتا ہے یہ مشتری فلک پر

یوسف ترے ہاتھ میں بکا ہوں

رخسار وہ رکھ کے سو گیا تھا

گل تکیوں کو روز سونگھتا ہوں

خط لکھ کے جو ہے تلاش قاصد

مانند قلم میں پھر رہا ہوں

مر جان کہی دیکھ دیکھ وہ ہاتھ

مہندی کی طرح میں پس گیا ہوں

اتنی تو جفائیں کر نہ اے بت

آخر میں بندۂ خدا ہوں

اب تو مجھے غیب داں کہیں سب

میں تیری کمر کو دیکھتا ہوں

گویاؔ ہوں وقت کا سلیماں

پریوں پر حکم کر رہا ہوں