Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا

مرزا مسیتابیگ منتہی

منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا

جام مئے الست بھرا تھا چھلک گیا

پیری ہوئی شباب سے اترا جھٹک گیا

شاعر ہوں میرا مصر ثانی لٹک گیا

مجھ رند پاک کا کبھی چلو نہ بھر دیا

ساقی ترے کرم سے ہر اک یار چھک گیا

میں لوٹ ہو گیا ہوں خط سبز رنگ پر

خار چمن سے دامن دل پہ اٹک گیا

پیری میں دل دیا بت بے رحم یار کو

منزل قریب تھی کہ مسافر بہک گیا

بھڑکایا دل کو تذکرۂ حسن یار نے

ایک ڈھیر آگ کا تھا ہوا سے دہک گیا

پردہ شراب عشق کا منصور سے کھلا

نداف تھا کہ پنبۂ بینا دھنک گیا

بلبل ہے چپ نسیم سحر بھی خموش ہے

شاید چمن میں برگ خرابی کھڑک گیا

جام بلور مے کا بھرا یار نے دیا

شب کو ہمارا اختر طالع چمک گیا

تو وہ حسیں ہوا کہ ہوئے تجھ پہ سب فدا

ایسا ہی گل کھلا کہ زمانا مہک گیا

رتبہ ترے کرم سے ہوا خاکسار کا

خورشید کی طرح سے یہ ذرہ چمک گیا

سودے سے جو بھرا وہ ہوا سر وبال دوش

بار شجر ہوا وہ ثمر جو کہ پک گیا

لگتا بہار گل میں گریباں کا کیا پتا

دامن کے پھاڑنے میں کہو ہاتھ تھک گیا